(جواب):
اریس مدینہ منورہ کے قریب مسجد قباء کے پاس ایک کنواں ہے جو خاتم النبوة (نبوی مہر) سے منسوب ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ مہر اس وقت بنوائی جب آپ نے غیر مسلم بادشاہوں کو اللہ کی طرف دعوت دینے کے لیے خطوط بھیجنے کا ارادہ فرمایا۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یہ لوگ بغیر مہر کے خطوط قبول نہیں کرتے۔
پہلے آپ ﷺ نے لوہے کی مہر بنوائی اور اسے اپنی انگلی میں پہنا۔ اس پر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اس سے منع فرمایا تو آپ نے اسے پھینک دیا۔ پھر ایک پیتل کی مہر بنوائی گئی، مگر جبرائیل نے اس سے بھی منع فرمایا۔ آخرکار چاندی کی مہر تیار کی گئی، جسے جبرائیل نے رکھنے کی اجازت دی۔
اس مہر پر تین سطریں نقش تھیں:
پہلی سطر: محمد
دوسری سطر: رسول
تیسری سطر: اللہیہ مہر رسول اللہ ﷺ نے اپنی وفات تک پہنی۔ پھر حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمرؓ، اور چھ سال تک حضرت عثمانؓ کے پاس رہی۔ ایک دن حضرت عثمانؓ کنویں کے کنارے بیٹھے تھے، مہر ان کی انگلی سے پھسل کر کنویں میں گر گئی۔ پانی نکال کر بہت تلاش کی گئی، مگر نہ ملی۔ حضرت عثمانؓ نے اسے تلاش کرنے پر بڑا انعام رکھا، مگر جب سب کوششیں ناکام ہوئیں، تو ایک نئی مہر بنوائی گئی