پہلا نکتہ: فعل کی اقسام اور "زار” کی نوعیت
فعل کی دو بڑی اقسام ہیں: صحیح اور معتل۔
- معتل فعل وہ ہے جس میں حروف علت (یعنی واو، الف، یا) میں سے کوئی ایک شامل ہو۔
- حروف علت کی محل وقوع کے مطابق معتلی افعال کی تین اقسام ہیں:
- مثال: اگر حرف علت فعل کے شروع میں ہو، جیسے "وجد”۔
- اجوف: اگر حرف علت فعل کے وسط میں ہو، جیسے "زار”۔
- ناقص: اگر حرف علت فعل کے آخر میں ہو، جیسے "دعا”۔
فعل "زار” اجوف کی قسم میں آتا ہے، کیونکہ اس کے وسط میں حرف علت (الف) ہے۔
دوسرا نکتہ: "زار” کے حرف علت کا حذف اور اس کی حرکات
- اجوف فعل میں حرف علت کا حذف: جب اجوف فعل کو ضمیر رفع متحرک (جیسے "تُ”، "نا”، "نَ”) کے ساتھ ملایا جاتا ہے تو حرف علت (الف) کو اس لیے حذف کر دیا جاتا ہے کہ دو ساکنات (الف اور ت) کا اتصال ہو رہا ہوتا ہے، جو عربی قواعد کے مطابق جائز نہیں۔
چنانچہ "زار” میں حرف علت کو حذف کر کے "زُرتُ”، "زُرنا”، "زُرْنَ” بنایا جاتا ہے۔ - حذف کے بعد زائے کی حرکت: زائے کی حرکت کا تعین اس حذف شدہ الف کے اصل (واو یا یا) سے کیا جاتا ہے:
- اگر الف کا اصل واو ہو، تو زائے کو ضمہ (پیش) دیا جاتا ہے۔
مثال: "زار” → "زُرتُ” (کیونکہ اصل زورَ ہے)۔ - اگر الف کا اصل یا ہو، تو زائے کو کسرہ (زیر) دیا جاتا ہے۔
مثال: "باع” → "بِعْتُ” (کیونکہ اصل بَیعَ ہے)۔
- اگر الف کا اصل واو ہو، تو زائے کو ضمہ (پیش) دیا جاتا ہے۔
نتیجہ:
فعل "زار” میں زائے کو ضم اس لیے دیا گیا کیونکہ الف کا اصل واو ہے۔
تیسرا نکتہ: "زار” کو مجهول بنانے کے قواعد
- مجهول بنانے کی قواعدی تبدیلیاں: جب فعل "زار” کو مجهول بنایا جاتا ہے تو درج ذیل تبدیلیاں ہوتی ہیں:
- سب سے پہلے فعل کو فُعِل کے وزن پر ڈھالا جاتا ہے، یعنی:
"زار” → "زُوِرَ” (زائے پر ضمہ اور واو پر کسرہ)۔ - چونکہ واو پر کسرہ ثقیل (بھاری) ہے، اس لیے واو کو یا میں بدل دیا جاتا ہے:
"زُوِرَ” → "زِیرَ”۔ - زائے کی حرکت (کسرہ) یاء کے ساتھ ہم آہنگ کی جاتی ہے۔
- سب سے پہلے فعل کو فُعِل کے وزن پر ڈھالا جاتا ہے، یعنی:
- مجهول کی مزید مثالیں:
- "قال” → "قِیلَ” (واو یاء میں تبدیل)۔
- "باع” → "بِیعَ”۔
چوتھا نکتہ: ابن مالک کی الفیہ کے مطابق اصول
ابن مالک نے الفیہ میں اس بات کو یوں بیان کیا ہے:
"واكسرْ أو اشْمِمْ فَا ثلاثيٍّ أُعلّ… عينًا وضَمٌّ جا كـ ‘بُوعَ’ فاحتملْ”
اس کے مطابق:
- اگر فعل کے حرف علت کا اصل واو ہو تو اسے "ضمہ” یا "اشمام” دیا جائے گا۔
- مثال: "قُولَ” اور "بُوعَ”۔
- اگر اصل یا ہو تو اسے "کسرہ” دیا جائے گا۔
- مثال: "قِیلَ” اور "بِیعَ”۔
اشمام: ضم اور کسرہ کے درمیان کی آواز ہے، جو صرف تلفظ میں ظاہر ہوتی ہے، تحریر میں نہیں۔
خلاصہ
- فعل "زار” اجوف ہے اور اس کے حرف علت (الف) کا اصل واو ہے، اس لیے حذف کے بعد زائے کو پیش (ضمہ) دیا جاتا ہے، جیسے: "زُرتُ”۔
- مجهول بنانے کے لیے فعل "زار” پہلے "زُوِرَ” میں تبدیل ہوتا ہے، پھر "زِیرَ” ہو جاتا ہے۔