سوال17)ناصیہ کیا ہے؟ اور یہ کیوں جھوٹی ہے؟

:

جواب:
"ناصیہ” سر کے سامنے والے حصے، یعنی پیشانی کو کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ} [الرحمن: 41]۔ نبی
نے فرمایا: «نَاصِيَتِي بِيَدِكَ» [ أحمدكى روايت]۔ "جھوٹیاور "خطاکا وصف مجازی طور پر اس کے مالک کے لیے ہے، یعنی یہ ناصیہ ایک جھوٹے اور خطا کرنے والے شخص کی ہے۔ یہ وصف اس لیے استعمال کیا گیا کہ انسان کے چہرے اور پیشانی پر مختلف جذبات جیسے خوشی، غم، تھکاوٹ، سچائی یا جھوٹ ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ آیت ابو جہل کے لیے آئی تھی جو جھوٹ بولنے میں مشہور تھا، جب اس نے کہا تھا کہ اگر میں محمد کو نماز پڑھتے دیکھوں گا تو میں ان کی گردن ماردوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی پیشانی کو جھوٹا اور خطا کار قرار دیا۔

"سفع” کا مطلب ہے مارنا، لٹکانا یا سیاہ کرنا، یہ سب کسی کی ذلت اور پستی کو ظاہر کرتے ہیں۔جہاں تک "ناصیہ” کے دماغی تجزیے کا تعلق ہے، جو یہ کہا گیا ہے کہ یہ حصّہ فیصلوں اور تدابیر کو کنٹرول کرتا ہے، اس کا تفصیلی مطالعہ اور تجربہ اہلِ علم کا کام ہے۔