جواب:
اصل یہ ہے کہ مردوں کے لیے زینت کے طور پر سونا استعمال کرنا حرام ہے، اور اس پر تمام ائمہ کا اتفاق ہے۔ حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے سات چیزوں سے منع کیا، ان میں سے ایک سونے کی انگوٹھی یا سونے کی انگوٹھی کی شکل تھی۔ [بخاری]۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ریشم کو اپنے دائیں ہاتھ میں اور سونے کو بائیں ہاتھ میں لے کر فرمایا: "یہ دونوں میری امت کے مردوں کے لیے حرام ہیں اور عورتوں کے لیے حلال ہیں”۔ [احمد، ابو داود، نسائی، ابن ماجہ]۔
جہاں تک سونے کی ملمع شدہ (یعنی چڑھی ہوئی) چیز کا تعلق ہے، تو اس کے بارے میں ائمہ کے مختلف آراء ہیں۔ حنفی فقہاء نے ایسی چیزوں کا استعمال جائز قرار دیا ہے جس میں سونا چڑھا ہوا ہو، بشرطیکہ سونا الگ نہ کیا جاسکے، اور یہ شافعیہ اور حنابلہ کا بھی ایک قول ہے۔ لہٰذا مذکورہ اوصاف کے مطابق گھڑی پہننے میں کوئی حرج نہیں۔