سوال 9: ایک سوال آیا ہے جس میں ایک شخص یہ اعتراض کر رہا ہے کہ کچھ مساجد ایک خاص دن کو خاص عبادت کے لیے مختص کرتی ہیں، مثلاً بعض مساجد ہر مہین کے پہلے ہفتے میں قیام کی تشہیر کرتی ہیں، اور کہتا ہے کہ یہ رسول ﷺ اور صحابہ سے ثابت نہیں ہے؟۔

جواب:
یہ اعتراض قابل غور ہے۔ یہ بات صحیح ہے کہ دین میں کوئی بھی ایسی عبادت جو رسول اللہ ﷺ یا صحابہ کرام سے ثابت نہ ہو، اسے خود بخود درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔

وضاحت:

اجتماعیت اور وقت کی تخصیص:
مساجد کا کسی خاص دن عبادت کے لیے مقرر کرنا، اگر اس کا مقصد لوگوں کو باہم ملانا اور روحانی ترقی کرنا ہے تو یہ ایک اچھی نیت ہو سکتی ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ عمل کسی اسلامی اصول کے خلاف نہ ہو۔

اجتماع کی عبادات:
اگر کوئی خاص عمل (جیسے قیام یا ذکر) معین دنوں میں کیا جائے تو یہ بھی ضروری ہے کہ اس کی بنیاد شریعت کی طرف ہو، یعنی اسے رسول اللہ ﷺ کی سنت یا صحابہ کے عمل سے ثابت ہونا چاہیے۔

نتیجہ:

بہرحال، ہر نئی عبادت یا عمل کی بنیاد ثابت دلیل پر ہونی چاہیے، تاکہ دین میں کسی قسم کی بدعت نہ ہو۔ اگر یہ عمل رسول ﷺ یا صحابہ سے ثابت نہیں ہے تو اسے پسندیدہ نہیں سمجھا جائے گا۔