جواب:
اگر سوال میں جیسا ذکر کیا گیا ہو، تو اس صورت میں قسم توڑنے پر ایک ہی کفارہ واجب ہوگا۔ کیونکہ قسم توڑنے کا عمل پہلی بار کے بعد ہی ہو چکا ہے۔ یعنی ایک ہفتے کے دوران پہلی مرتبہ قسم توڑنے سے قسم کا اثر ختم ہو گیا اور بعد میں جتنی بھی قسم توڑنے کی کوشش کی جائے، وہ اصل قسم کے تحت نہیں آتی، کیونکہ پہلی بار قسم توڑنے سے اس کا اثر ختم ہو چکا ہوتا ہے اور اس پر صرف ایک ہی کفارہ لازم ہوتا ہے۔