جواب):
پہلا: اسلام میں ہم جنس پرستی کو سب سے بڑی برائیوں میں شمار کیا گیا ہے اور اس کے متعلق شریعت کی واضح ممانعت ہے، خواہ یہ مردوں کے درمیان ہو یا خواتین کے درمیان۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
{ اور لوط علیہ السلام کی قوم کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے قوم والوں سے کہا: کیا تم بے حیائی کے کام کرتے ہو، حالانکہ تم دیکھتے ہو؟
تم اللہ کے راستے سے اس بری حرکت کو کیسے کرتے ہو؟ بلکہ تم لوگ جاہل لوگ ہو۔" } [اعراف: 80-81]
اور { اور ہم نے انہیں (حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد) اسماعیل، یعقوب اور داؤد علیہ السلام کے ساتھ ملایا، اور ہم نے ان کے لئے جنت کو حلال کر دیا۔” } [انبياء: 74]
شریعت میں ایسے عمل کی نہ صرف ممانعت کی گئی ہے بلکہ اس کے کرنے والوں کو سخت عذاب کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔ اس کے باوجود، اگر کوئی شخص اس فعل کا ارتکاب کرتا ہے، تو اسلام نے اس سے تعلق نہ رکھنے اور اس کی حمایت نہ کرنے کی ترغیب دی ہے۔آپ کا سوال اس بات سے متعلق ہے کہ آپ اگر اس شخص سے مکان کرایہ پر لیتے ہیں تو کیا آپ اس کی حمایت کر رہے ہیں؟ یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ کرایہ صرف کرایہ کی بنیاد پر لیا جا رہا ہے، نہ کہ شخص کی ذاتی زندگی کی بنیاد پر۔ شریعت میں اس بات کی اجازت ہے کہ آپ اپنی ضرورت کے مطابق مکان کرایہ پر لیں، بشرطیکہ آپ کسی ایسے شخص کے ساتھ تعلق نہ رکھیں جو کھلا گناہ کر رہا ہو۔